نئی دہلی، 3 ؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پلوامہ حملے کے بعد ہندوستان کی طرف سے کی گئی اسٹرائیک سے پاکستان کے موقف میں کس طرح تبدیلی ہو سکتی ہے اس پر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) بھوپندر سنگھ ہڈا نے اپنی بات رکھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے نمٹنا صرف فوج کے سہارے ممکن نہیں ہے، اس کے لئے اپنا سیاسی عزم اور سفارت کاری کے راستے پر بھی کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 2016 میں سرجیکل اسٹرائیک کی لیکن اس کے بعد بھی پاکستان نے حملہ کیا۔پاکستان کے خلاف ایک پالیسی ہونا ضروری ہے، صرف ایک اسٹرائک سے کچھ نہیں ہو گا اگر ہم سخت رخ اختیار کر رہے ہیں تو اسے طویل آگے بڑھانا ہوگا۔بھوپندر سنگھ ہڈا بولے کہ ہم طویل وقت تک صرف ایک اسٹرائیک کا جشن نہیں منا سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد جو ایکشن لیا وہ مضبوطی بھرا فیصلہ تھا۔پاکستان کو جواب دینا ضروری ہے، اس کے لئے فوج کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کا استعمال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ایک طویل سوچ کے ساتھ ایک ہی پالیسی پر چلنا ضروری ہے۔
سرجیکل اسٹرائیک کے ہیرو بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ فوجی طاقت صرف ایک ہی حصہ ہے، اگر صرف اسٹرائک سے کچھ ہو گا تو وہ سوچنا غلط ہوگا،فوجی طاقت کی اپنی حدیں ہیں، اس میں سفارتی طاقت ہونا بھی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں ہمیشہ دو طرح کی سوچ ہیں، کوئی کہتا ہے پاکستان دقت ہے اور کوئی کہتا ہے اندرونی مسئلہ ہے لیکن دونوں ہی باتیں سچ ہیں۔آپ کویہ بھی ماننا ہوگا کہ وہاں ایک بڑا مسئلہ ہے،جب گورنر نے حکومت کو ہٹا کر، گورنر راج لگایا، تو میں حیران تھا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کافی پہلے سے ہی فوج حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں،جب حکومت کی سیاسی قوت ارادی صاف ہوتی ہے، تو اسی کے مطابق فوج اپنی پالیسی بناتی ہے۔